خان عبدالغفار خان | Khan Abdul Ghaffar Khan
Original price was: ₨ 1,000.₨ 735Current price is: ₨ 735.
- Title: خان عبدالغفار خان – آپ بیتی (Khan Abdul Ghaffar Khan: Aap Beeti)
- Author: Khan Abdul Ghaffar Khan
- Language: Urdu
- Genre: Autobiography / Memoir / Political History
- Binding: Hardback
- Themes: Freedom struggle, non-violence, social reform, leadership, and personal sacrifice.
In Stock

In Stock
Out of Stock
Out of Stock
- Description
-
Description
وہ باچا خان سے پہلے غفار خان تھے۔
جب تک وہ غفار خان تھے، ہم بس پختون تھے۔ ایک دوسرے سے ہمشہ برتر اور ایک دوسرے کو ہر حالت میں نیچا دکھانے کیلئے تیار۔ انہوں نے ہمیں ایک قوم میں پرونا چاہا۔ جس کی خاطر ہمیں تعلیم اور سیاسی شعور سے آراستہ کیا۔ اس دور میں انگریز نے ہماری جو بھی تاریخ لکھی، تو اپنی ہر کتاب کے سرورق پر ہماری پرچھائی کے ساتھ بندوق کی تصویر بنائی اور ہر صفحہ پر جنگوں کی کہانیاں لکھیں۔ لیکن باچا خان ملا تو انہوں نے ہمارے ہاتھوں میں قلم تھمایا اور ہمیں مرغوں، کتوں اور تربوروں کو لڑانے کی بجائے تنظیم، نظم وضبط اور معاش کے لیے نئی طرح کی صفیں بنانا سکھائیں۔
باچا خان کی تحریک کے اثرات جہاں جہاں تک پہنچے، ان علاقوں اور لوگوں، اور جہاں تک وہ نہیں پہنچ سکے، ان علاقوں اور لوگوں کی طرز زندگی اور سیاسی سوجھ بوجھ اور ترجیحات میں آج بھی بڑا فرق موجود ہے۔
وہ ہندوستان کے مہذب، معاشی طور پر مضبوط اور سیاسی طور پر ترقی یافتہ قوموں کی ساری اچھی خوبیاں اپنی قوم کے اندر سمونے کیلئے کوشاں رہیں۔ ان کا راستہ بھی ، آج کے روشن فکر پختونوں کے راستے کی طرح رجعت پسند اور پیسہ پرست نوسربازوں نے روکا تھا، لیکن وہ چراغ سے چراغ جلاتے آگے بڑھتے گئے۔
اگر جنگ عظیم کے خاتمے پر پاکستان اچانک نہ بنا ہوتا، تو آج پختون نسبتاً زیادہ تعلیم یافتہ، زیادہ خوشحال اور زیادہ روشن فکر ہوتے۔ پاکستان بننے کے بعد اور ان کو آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت نہ دیئے جانے کی وجہ سے، جو انہوں نے بویا تھا، وہ سب سرکاری سرپرستی میں ضائع کرا دیا گیا۔ انہوں نے پختونوں کو غیروں کے خلاف تشدد کرنے سے روکا تھا لیکن اب پختونوں کو تشدد کی ایک ایسی مشینری میں تبدیل کیا گیا، جس نے اس سیکھی ہوئی تشدد کو، عدم تشدد کے خوگروں یعنی اپنے بھائیوں کے خلاف استعمال کیا۔
جن علاقوں کے پختونوں تک باچا خان کو پہنچنے نہیں دیا گیا تھا، ان علاقوں کو تشدد کے مستقل مراکز میں تبدیل کیا گیا۔ اور اب بات یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ان علاقوں میں تسلسل سے امن مارچیں اور پاسون ہو رہے ہیں لیکن امن کی ناراض اور خوفزدہ پری وہاں واپس آنے پر کسی طرح تیار نہیں۔ امن واپس نہ آنے کی ایک اور بڑی وجہ یہ ہے کہ جن نوسربازوں نے وہاں کے باشندوں کو دنیا بیزار مج اہد اور ابدی جنتی بنایا ہوا تھا، آج بھی وہ ان کے رہبر و امیر بنے ہوئے ہیں۔ پختون علاقوں کا امن، واپس پختون بن کر، واپس آسکتا ہے۔ یاد کریں، جنگ لانے سے پہلے آپ کے وہ بزرگ قتل کردیے گئے تھے، جو آپ کے درمیان جرگہ بٹھا کر صلح کردیا کرتے تھے، تاکہ جنگ پسند آپ کے لیڈر بن سکے۔
آج بھی کرم کے پختون، صرف پختون بن کر دوبارہ امن پاسکتے ہیں۔ ورنہ جس طرح باچا خان دوبارہ آنا اب ممکن نہیں، اسی طرح امن بھی ہمیشہ کیلئے رخصت ہو سکتاہے۔
- Reviews (0)
-
- Shipping & Return
-
Shipping & Return
- Orders are dispatched within 24–48 business hours.
- Free shipping on orders of PKR 25,000 and above.
- Nationwide delivery across Pakistan.
- Estimated delivery: 2–5 business days (major cities).
- Cash on Delivery (COD) available across Pakistan.
- Advance bank transfer customers receive an exclusive discount.
Returns & Exchanges
We carefully inspect every book before dispatch. If you receive a damaged, defective, or incorrect item, please contact us within 3 days of delivery. Eligible products will be replaced or exchanged according to our Return & Refund Policy.
Important Information
Delivery times may vary depending on your location and courier service. During sales, holidays, or unforeseen circumstances, orders may require additional processing time. For assistance, please contact our customer support team before placing your order.




Reviews
There are no reviews yet.