Description
راجہ انور کو شاید آج کی سوشل میڈیا یا ٹک ٹاک ایج کی نئی نسل زیادہ نہیں جانتی۔ لیکن میں انھیں 1991ء سے ان کی کتاب ’’جھوٹے رُوپ کے درشن‘‘ کی وجہ سے ہی جانتا ہوں۔ مجھے یاد ہے ملتان یونیورسٹی میں اکثر طالبِ علموں کی طرح میرے نزدیک بھی رومانٹک لیکن انقلابی کتاب یہی تھی۔ اگر رومانوی خط و کتابت کرنی ہے اور انقلابی بننا ہے تو راجہ انور کو پڑھیں۔ یہ کتاب میرے ہاتھ لگی اور میں نے بھی وہ رومانوی خطوط پڑھے اور خود کو راجہ انور نہیں بلکہ ’’راجہ اِندر‘‘ سمجھا۔
راجہ انور ساری عمر ایک سیاسی ورکر اور باغی رہے ہیں۔ انھوں نے خطرات سے بھرپور زندگی گزاری ہے۔ جلاوطنی بھگتی، موت کا سامنا کیا، افغانستان کی جیل میں رہے۔ اُن دنوں کی دردناک کہانی پر مشتمل کتاب ’’قبر کی آغوش‘‘ پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ راجہ انور سے میری بھی چند ملاقاتیں رہی ہیں۔ وہ ایک شاندار کمپنی ہیں۔ بہترین گفتگو اور پوٹھوہار کی خوبصورت دھرتی کی روایتی محبت ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔
ایک دن پتا کیا، وہ شہر میں نہ ملے۔ اِدھر اُدھر سے سن گن لی تو معلوم پڑا اُن کی طبیعت خراب ہوگئی تھی تو علاج کے لیے باہر تشریف لے گئے ہیں۔ چند دوستوں سے پوچھا تو بھی ان کا کچھ پتا نہ چلا۔ پھر ایک لمبی جدائی۔ ایک دن شاہد صدیقی صاحب نے ان کےساتھ اپنی تصویر شیئر کی تو پتا چلا راجہ انور کی محفلیں پھر سے آباد ہوگئی ہیں۔ دل شاد ہوا۔
راجہ صاحب جتنی اچھی گفتگو اور تقریر کرسکتے ہیں اتنا ہی اچھا وہ لکھتے ہیں۔ بک کارنر جہلم نے اب راجہ انور کی کلاسک کتاب ’’جھوٹے رُوپ کے درشن‘‘ کا نیا ایڈیشن چھاپ کر نئی نسل کو ان سے متعارف کرانے کی خوبصورت کوشش کی ہے۔ اگر آپ اپنی گزری جوانی کے دنوں کے عشق کا ذائقہ محسوس کرنا چاہتے ہیں، کسی بھولی بسری حسینہ کی یادوں سے دل بہلانا چاہتے ہیں، محبت اور عشق کی سرد راکھ میں بچی کھچی چند چنگاریوں کو پھر سے سلگانا چاہتے ہیں، یونیورسٹی اور ہاسٹل لائف کے گزرے خوبصورت دنوں میں کچھ دیر کے لیے گم ہونا چاہتے ہیں اور خوبصورت نثر پڑھنے کا شوق رکھتے ہیں تو اس سے بہتر کتاب کوئی نہیں ہو سکتی۔
راجہ انور کو صحت مند ہو کر اپنے وطن اور ادب کی دنیا میں دوبارہ واپسی مبارک ہو۔ بہت کم خوش قسمت ہوتے ہیں جو ایک دفعہ ڈوب جائیں تو دوبارہ اسی شان سے طلوع ہوں جیسے راجہ انور ہوئے ہیں۔
کیا آپ پوٹھوہار کے راجہ کا سواگت نہیں کریں گے؟
(رؤف کلاسرا)







Reviews
There are no reviews yet.