Description
فرانس کے مایہ ناز بین الملّی شاعر، ادیب اور مفکر وکٹر ہیوگو کی ہستی محتاجِ تعارف نہیں۔وہ اپنی لاثانی و غیر فانی تصنیف “Les Misérables” سے شہرتِ دوام حاصل کر چکا ہے۔ فی الحقیقت فرانسیسی انشاپرداز اپنے زمانہ (1802-1885ء) میں فطرتِ انسانی کا بہترین ماہر تھا۔ جس چیز نے ہیوگو کے دماغ کو حد سے زائد پریشان کیا، جس مسئلے نے ہیوگو پر راتوں کی نیند حرام کر دی، جس قانون نے اس کے قلم کو اعجاز بخشا، وہ سزائے موت کا خونی فتویٰ تھا۔ اس کے نزدیک وہ کتاب قانون کا سیاہ ترین ورق تھا، جس میں متفقہ طور پر موت کی سزا کو جائز قرار دیا گیا تھا۔ ہیوگو فتویٰ ٔموت کو فرانسیسی مقننین کے عدل و انصاف کی رُو سے غدّاری بتاتا ہے۔ جس طرح ہیوگو نے غربا کے مصائب سے متاثر ہو کر “Les Misérables” لکھی، ٹھیک اسی طرح سزائے موت کے مجرم کے اندر احساسات اور قلبی کیفیات سے اثر پذیر ہو کر اس نے یہ کتاب”The Last Day of a Condemned Man” لکھی۔ کتاب کا اندازِ تحریر پڑھنے والوں کے دماغ سے گزر کر اُن کے دل پر منقش ہو جاتا ہے۔ کتاب فی الحقیقت ایک بین الملّی المناک داستان ہے۔ قانون دان طبقہ اور فطرتِ انسانی سے دلچسپی رکھنے والے حضرا ت کو چاہیے کہ وہ اس کتاب کا ضرور مطالعہ کریں۔ میں نے ہیوگو کے اس شاہکار کو اُردو کا جامہ پہنایا ہے۔ ترجمہ کرتے وقت میرے پیشِ نظر دو مقاصد تھے۔ اولاً ہیوگو کا تنسیخِ سزائے موت کا نظریہ۔ ثانیاً وطنی ادبیات کی خدمت۔ ممکن ہے کہ میں اپنے مؤخر الذکر مقصد میں کامیاب نہ ہو سکوں، بہرحال میں نے سعی ضرور کی۔
سعادت حسن منٹو





Reviews
There are no reviews yet.