Description
اجنبی پہلی بار 1942ء میں چھپا تھا مگر جب آلبرٹ کامیو کو 1957ء میں ادب کا نوبیل پرائز ملا تو اس مختصر ناول کا دنیا میں بہت چرچا ہوا۔ میں اس وقت ہسپانیہ میں پاکستانی سفارت کا دبیر اوّل تھا۔ ان دنوں فرانس کے مشہور فلسفی یاں پال سارتر کا بہت شہرہ تھا۔ قہوہ خانوں میں اس کے نئے ”فلسفۂ ہستی“ کی تحریک پر گرما گرم بحثیں ہوا کرتیں۔ ہم بھی اس دماغی عیاشی سے لطف اندوز ہوتے مگر سچ بات تو یہ ہے کہ اس کا فلسفہ صحیح طور پر کسی کے پلّے نہ پڑتا۔ آلبیر کامیو کا یاںپال سارتر کی تحریک سے گہرا تعلّق تھا۔ چنانچہ جب یہ ناول چھپا تو یاروں نے اس کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا دیے۔
کامیو بہت عرصہ الجزائر میں عربوں کے ساتھ رہا مگر ایک اجنبی کی طرح وہ ان کے تمدّن کی تہہ تک نہ پہنچ سکا اور اُن کی تہذیب سے اُسے دلچسپی تھی نہ ہمدردی۔ اس ناول میں ایک عرب عورت کی خوب پٹائی ہوتی ہے۔ اسے رسوا اور ذلیل کیا جاتا ہے مگر کسی کے کان پر جُوں تک نہیں رینگتی۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایک عرب عورت کو محبت کرنے کا کوئی حق ہی نہیں پہنچتا۔ وہ اپنے ہی ملک میں ایک غیر ملکی کی طرح ایک داشتہ بن کر رہ سکتی ہے۔ فرانسیسی بیوی تو شادی کے بعد بھی دوسرے مردوں سے راہ و رسم پیدا کر سکتی ہے مگر عرب عورت کو صرف یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ نان ونفقہ کے عوض عمر بھر کے لیے اپنا سب کچھ ناموس، عزّت، عصمت، وفا ایک مرد کی نظر کر دے۔
اس ناول میں ایک مریل کتّے کا کردار اس خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے کہ پڑھنے والوں کو اس سے نہ صرف گہری ہمدردی ہو جاتی ہے بلکہ جب اسے ذرا ہلکی سی سزا ملتی ہے تو اس کے مالک پر بہت غصّہ آتا ہے۔ برعکس اس کے جب عرب عورت کی خاصی مرمت ہو تی ہے تو اس پر کسی کو ترس نہیں آتا۔ ایک عرب کڑیل جوان موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے اور قاری کی ہمدردی کا طوفان تمام تر قاتل کی طرف اُمڈتا چلا جاتا ہے۔
ناول کے ہیرو موسیو مرسو کا کر دار بہت ہی سادہ اور پیچیدہ ہے۔ وہ ایک نہایت دلچسپ شخصیت ہے مگر اس کا سمجھنا کچھ اس قدر آسان نہیں ہے اور اکثر گم سُم رہتا ہے۔ کبھی کبھار بات کرتا ہے تو یہی ایک آدھ جملہ، ہلکی سی طنز،مبہم ساکنا یہ اشارہ مگر موسیو مرسو یاروں کا یار ہے، نہ کسی سے بغض نہ عناد۔چھوٹی سی بات پر خوش ہو جاتا ہے اور بڑی سے بڑی بات پر ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ ایک سادہ لو ح انسان ہے، مرنجان مرنج، زندگی کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں پر وہ پھولا نہیں سماتا اور بڑے سے بڑے رنج و محن ہنسی خوشی برداشت کر لیتا ہے۔
نہ گلہ ہے دوستوں کا نہ شکایتِ زمانہ
غرض ایک مجموعۂ اضداد ہے۔ دیوانہ مگر کارِ خویش سے بیگانہ۔ کچھ پلّے نہیں پڑتا اور سمجھ بھی کیوں کر آئے، وہ بہت کچھ کہتا بھی تو نہیں۔








Reviews
There are no reviews yet.